مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

باب 5

یسوع کب اور کہاں پیدا ہوئے؟‏

یسوع کب اور کہاں پیدا ہوئے؟‏

لُوقا 2:‏1-‏20

  • بیت‌لحم میں یسوع کی پیدائش

  • چرواہے ننھے یسوع کو دیکھنے آئے

رومی سلطنت کے شہنشاہ قیصر اوگوستُس نے حکم جاری کِیا کہ پوری سلطنت میں مردم‌شماری کرائی جائے۔ اِس لیے یوسف اور مریم کو اپنا نام لکھوانے کے لیے شہر بیت‌لحم کا سفر کرنا پڑا جو یوسف کا آبائی شہر تھا اور یروشلیم کے جنوب میں واقع تھا۔‏

جب یوسف اور مریم بیت‌لحم پہنچے تو اُنہیں کہیں ٹھہرنے کی جگہ نہیں ملی کیونکہ بہت سے لوگ اپنا نام لکھوانے کے لیے بیت‌لحم آئے ہوئے تھے۔ آخرکار اُن دونوں کو جانوروں کے باڑے میں رات گزارنی پڑی اور وہیں یسوع کی پیدائش ہوئی۔ مریم نے اُن کو کپڑے میں لپیٹا اور چرنی میں رکھا جس میں عام طور پر جانوروں کا چارا ڈالا جاتا تھا۔‏

قیصر اوگوستُس نے مردم‌شماری کا جو حکم دیا، اُس کے پیچھے ضرور خدا کا ہاتھ تھا۔ ہم یہ کیوں کہہ سکتے ہیں؟ کیونکہ اِس مردم‌شماری کی وجہ سے یسوع کی پیدائش بادشاہ داؤد کے آبائی شہر بیت‌لحم میں ہوئی جن کی نسل سے وہ تھے۔ بہت عرصہ پہلے پاک صحیفوں میں پیش‌گوئی کی گئی تھی کہ خدا کا مقررہ حاکم اِسی شہر میں پیدا ہوگا۔—‏میکاہ 5:‏2‏۔‏

جس رات یسوع پیدا ہوئے، وہ کتنی خاص تھی!‏ میدان میں کچھ چرواہے اپنے گلّوں کی رکھوالی کر رہے تھے کہ اچانک اُن کے اِردگِرد روشنی ہو گئی۔ یہ یہوواہ خدا کی شان تھی۔ پھر اُن کو ایک فرشتہ دِکھائی دیا جس نے کہا:‏ ”‏ڈریں مت!‏ دیکھیں!‏ مَیں آپ کو ایک ایسی خوش‌خبری سنانے آیا ہوں جو سب لوگوں کے لیے بڑی خوشی کا باعث ہوگی کیونکہ آج داؤد کے شہر میں آپ کے لیے ایک نجات‌دہندہ پیدا ہوا ہے یعنی آپ کا مالک، مسیح۔ اور آپ اُسے یوں پہچانیں گے:‏ ایک چھوٹا بچہ کپڑے میں لپٹا ہوا اور چرنی میں پڑا ہوا ہوگا۔“‏ اچانک اُس فرشتے کے ساتھ بہت سے اَور بھی فرشتے دِکھائی دیے جو کہنے لگے:‏ ”‏آسمان پر خدا کی بڑائی ہو اور زمین پر اُن لوگوں کو اِطمینان حاصل ہو جن سے خدا خوش ہے۔“‏—‏لُوقا 2:‏10-‏14‏۔‏

جب فرشتے چلے گئے تو چرواہوں نے ایک دوسرے سے کہا:‏ ”‏آؤ، فوراً بیت‌لحم چلیں اور وہ سب باتیں اپنی آنکھوں سے دیکھیں جو یہوواہ نے ہمیں بتائی ہیں۔“‏ (‏لُوقا 2:‏15‏)‏ وہ جلدی جلدی بیت‌لحم گئے۔ اُنہوں نے ننھے یسوع کو وہیں پایا جہاں فرشتے نے اُنہیں بتایا تھا۔ جب چرواہے وہاں موجود لوگوں کو وہ ساری باتیں بتانے لگے جو فرشتے نے اُن سے کہی تھیں تو سب حیران ہوئے۔ مریم نے یہ ساری باتیں اپنے ذہن میں بٹھا لیں اور اِن پر سوچ بچار کرتی رہیں۔‏

آج‌کل بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ یسوع 25 دسمبر کو پیدا ہوئے۔ لیکن بیت‌لحم کے علاقے میں دسمبر کے مہینے میں بہت سردی ہوتی ہے اور بارشیں ہوتی ہیں‏، یہاں تک کہ کبھی کبھار برف بھی پڑتی ہے۔ ایسے موسم میں چرواہے اپنے گلّوں کے ساتھ رات میدان میں نہیں گزارتے۔ اِس کے علاوہ روم کا شہنشاہ شدید سردی میں کبھی مردم‌شماری کا حکم نہیں دیتا جب لوگوں کے لیے سفر کرنا مشکل ہوتا، خاص طور پر یہودیوں کو جو ویسے بھی اُس کے خلاف بغاوت کرنے پر تُلے تھے۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یسوع دسمبر میں نہیں پیدا ہوئے۔ دراصل اِس بات کے ثبوت ہیں کہ وہ اکتوبر میں پیدا ہوئے تھے‏۔‏