مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

باب 133

یسوع مسیح کی تدفین

یسوع مسیح کی تدفین

متی 27:‏57–‏28:‏2 مرقس 15:‏42–‏16:‏4 لُوقا 23:‏50–‏24:‏3 یوحنا 19:‏31–‏20:‏1

  • یسوع مسیح کی لاش کو سُولی سے اُتارا گیا

  • یسوع کو کفنایا اور دفنایا گیا

  • عورتوں نے یسوع مسیح کی قبر کو خالی پایا

جمعہ 14 نیسان کی سہ‌پہر تھی۔ سورج غروب ہونے کے بعد 15 نیسان شروع ہونے والا تھا جو کہ سبت کا دن تھا۔ یسوع مسیح فوت ہو چُکے تھے مگر جن دو ڈاکوؤں کو اُن کے ساتھ سُولیوں پر لٹکایا گیا تھا، وہ ابھی زندہ تھے۔ شریعت میں حکم تھا کہ کوئی لاش رات بھر سُولی پر لٹکی نہ رہے بلکہ اُسے اُسی دن دفن کر دیا جائے۔—‏اِستثنا 21:‏22، 23‏۔‏

جمعے کا دن سبت کی تیاری کا دن ہوتا تھا کیونکہ اُس دن لوگ کھانا پکاتے تھے اور وہ سارے کام کرتے تھے جو وہ سبت کے دن نہیں کر سکتے تھے۔ سورج غروب ہونے پر ایک ”‏خاص سبت“‏ شروع ہونے والا تھا۔ (‏یوحنا 19:‏31‏)‏ پندرہ نیسان بے‌خمیری روٹی کی عید کا پہلا دن تھا جس پر ہمیشہ سبت منایا جاتا تھا، خواہ یہ کسی بھی دن پڑے۔ (‏احبار 23:‏5-‏7‏)‏ اُس سال 15 نیسان ہفتے کے روز پڑا جو کہ سبت کا دن ہوتا تھا۔ چونکہ یہ دونوں سبت ایک ہی دن پر تھے اِس لیے اِسے ”‏خاص سبت“‏ کہا گیا۔‏

یہودیوں نے پیلاطُس سے یسوع اور دونوں ڈاکوؤں کی ٹانگیں تڑوانے کی اِجازت مانگی تاکہ وہ جلدی مر جائیں۔ وہ ٹانگیں اِس لیے توڑتے تھے تاکہ مُجرم اپنی ٹانگوں سے اپنے جسم کے وزن کو سنبھال نہ سکے اور یوں اُس کے لیے سانس لینا مشکل ہو جائے۔ لہٰذا سپاہیوں نے آ کر ڈاکوؤں کی ٹانگیں توڑیں۔ لیکن جب وہ یسوع کے پاس آئے تو اُنہوں نے دیکھا کہ وہ مر چُکے ہیں اِس لیے اُنہوں نے اُن کی ٹانگیں نہیں توڑیں‏۔ یوں زبور 34:‏20 میں درج پیش‌گوئی پوری ہوئی جہاں لکھا ہے:‏ ”‏وہ اُس کی سب ہڈیوں کو محفوظ رکھتا ہے۔ اُن میں سے ایک بھی توڑی نہیں جاتی۔“‏

مگر یہ دیکھنے کے لیے کہ آیا یسوع واقعی مر گئے ہیں، ایک سپاہی نے اُن کی پسلیوں میں نیزہ گھونپا۔ ”‏فوراً وہاں سے خون اور پانی نکل آیا۔“‏ (‏یوحنا 19:‏34‏)‏ یوں یہ پیش‌گوئی پوری ہوئی:‏ ”‏وہ اُس پر جس کو اُنہوں نے چھیدا ہے نظر کریں گے۔“‏—‏زکریاہ 12:‏10‏۔‏

جب یسوع مسیح کو سزائے‌موت دی جا رہی تھی تو شہر ارمتیاہ کے یوسف بھی وہاں موجود تھے۔ وہ ”‏امیر آدمی“‏ تھے اور عدالتِ‌عظمیٰ کے مُعزز رُکن تھے۔ (‏متی 27:‏57‏)‏ پاک کلام میں اُن کے بارے میں لکھا ہے کہ ’‏وہ بڑے اچھے اور نیک اِنسان تھے‘‏ اور ”‏خدا کی بادشاہت کا اِنتظار کر رہے تھے۔“‏ دراصل یوسف، یسوع کے شاگرد بن چُکے تھے لیکن خفیہ طور پر کیونکہ وہ یہودیوں سے ڈرتے تھے۔ مگر جب عدالتِ‌عظمیٰ نے یسوع مسیح کے خلاف فیصلہ سنایا تو یوسف نے اِس کی حمایت نہیں کی۔ (‏لُوقا 23:‏50؛‏ مرقس 15:‏43؛‏ یوحنا 19:‏38‏)‏ اب اُنہوں نے ہمت باندھ کر پیلاطُس سے یسوع کی لاش مانگی۔ پیلاطُس نے اُس فوجی افسر کو بلوایا جسے یسوع کو سزائے‌موت دینے کی ذمے‌داری دی گئی تھی اور اُس سے یسوع کی موت کی تصدیق کرائی۔ پھر پیلاطُس نے یوسف کو لاش لے جانے کی اِجازت دے دی۔‏

یوسف نے صاف ستھرا اور اعلیٰ قسم کا لینن کا کپڑا خریدا۔ پھر اُنہوں نے یسوع کی لاش سُولی سے اُتاری۔ نیکُدیمس جو کچھ سال پہلے ”‏رات کو یسوع کے پاس گئے تھے،“‏ وہ بھی وہاں آئے اور اپنے ساتھ مُر اور عُود کا بہت ہی قیمتی آمیزہ لائے جس کا وزن تقریباً 100 رومی پونڈ (‏33 کلوگرام)‏ تھا۔ (‏یوحنا 19:‏39‏)‏ اُن دونوں نے یہ مصالحے لینن کی پٹیوں پر لگائے اور یسوع کی لاش کو اِن سے لپیٹ دیا جیسا کہ یہودی کفن دفن کے لیے کِیا کرتے تھے۔‏

وہاں پاس ہی ایک نئی قبر تھی جو یوسف نے اپنے لیے چٹان میں بنوائی تھی۔ اُنہوں نے یسوع کی لاش کو اُس میں رکھ دیا اور پھر ایک بڑا سا پتھر لڑھکا کر قبر کے مُنہ پر رکھ دیا۔ یہ سب کچھ جلدی جلدی کِیا گیا کیونکہ سبت شروع ہونے والا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ مریم مگدلینی اور یعقوب رسول کی ماں مریم نے بھی یسوع کے کفن دفن میں اُن کی مدد کی ہو۔ پھر یہ عورتیں ”‏مصالحے اور خوشبودار تیل تیار کرنے“‏ کے لیے جلدی سے اپنے گھر گئیں تاکہ سبت کے بعد اِسے یسوع کی لاش پر لگا سکیں۔—‏لُوقا 23:‏56‏۔‏

اِس کے اگلے دن یعنی سبت کے دن اعلیٰ کاہن اور فریسی، پیلاطُس کے پاس گئے اور کہنے لگے:‏ ”‏جناب، ہمیں یاد آیا کہ جب وہ دھوکے‌باز زندہ تھا تو اُس نے کہا تھا کہ ”‏مجھے تین دن کے بعد زندہ کِیا جائے گا۔“‏ اِس لیے یہ حکم دیں کہ تیسرے دن تک قبر کی کڑی نگرانی کی جائے تاکہ ایسا نہ ہو کہ اُس کے شاگرد آئیں اور اُس کی لاش کو چُرا کر لے جائیں اور پھر لوگوں سے کہیں کہ ”‏وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا ہے!‏“‏ تب یہ جھوٹ اُس کے پہلے جھوٹ سے زیادہ نقصان‌دہ ہوگا۔“‏ اِس پر پیلاطُس نے کہا:‏ ”‏جاؤ، سپاہیوں کو اپنے ساتھ لے جاؤ۔ اور جس طرح قبر کی نگرانی کروانا چاہتے ہو، کروا لو۔“‏—‏متی 27:‏63-‏65‏۔‏

اِتوار کو صبح سویرے مریم مگدلینی اور یعقوب رسول کی ماں مریم کچھ اَور عورتوں کے ساتھ یسوع کی قبر پر گئیں کیونکہ وہ اُن کی لاش پر خوشبودار مصالحے لگانا چاہتی تھیں۔ راستے میں وہ ایک دوسرے سے کہہ رہی تھیں کہ ”‏ہمارے لیے قبر کے آگے سے پتھر کون ہٹائے گا؟“‏ (‏مرقس 16:‏3‏)‏ لیکن اُن کے پہنچنے سے پہلے ایک زلزلہ آیا تھا اور خدا کے فرشتے نے قبر سے پتھر ہٹا دیا تھا۔ لہٰذا جب وہ قبر پر پہنچیں تو اُنہوں نے دیکھا کہ وہاں کوئی سپاہی نہیں ہے اور قبر خالی ہے۔‏