مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

باب 101

شمعون کے گھر دعوت پر

شمعون کے گھر دعوت پر

متی 26:‏6-‏13 مرقس 14:‏3-‏9 یوحنا 11:‏55–‏12:‏11

  • یسوع مسیح بیت‌عنیاہ پہنچ گئے

  • مریم نے یسوع مسیح پر خوشبودار تیل ڈالا

یسوع مسیح یریحو سے بیت‌عنیاہ کے لیے روانہ ہو گئے۔ یہ کافی مشکل سفر تھا کیونکہ یریحو سطحِ‌سمندر سے 250 میٹر (‏820 فٹ)‏ نیچے واقع تھا جبکہ بیت‌عنیاہ سطحِ‌سمندر سے 610 میٹر (‏2000 فٹ)‏ اُوپر واقع تھا۔ لہٰذا یسوع مسیح کو بیت‌عنیاہ پہنچنے کے لیے تقریباً 20 کلومیٹر (‏12 میل)‏ کی چڑھائی طے کرنی پڑی۔ اِس گاؤں میں لعزر اور اُن کی دو بہنیں رہتی تھیں۔ یہ گاؤں یروشلیم سے تقریباً 3 کلومیٹر (‏2 میل)‏ دُور کوہِ‌زیتون کی مشرقی ڈھلان پر واقع تھا۔‏

بہت سے یہودی عیدِفسح سے پہلے ہی یروشلیم پہنچ گئے تھے۔ وہ اِس لیے جلدی آئے تھے تاکہ وہ ”‏اپنے آپ کو پاک“‏ کر سکیں۔ یہ ایسی صورت میں ضروری تھا اگر اُنہوں نے کسی لاش کو چُھوا ہو یا کسی اَور کام کی وجہ سے ناپاک ہو گئے ہوں۔ (‏یوحنا 11:‏55؛‏ گنتی 9:‏6-‏10‏)‏ اِن میں سے کچھ لوگ ہیکل میں جمع ہو گئے اور اِس موضوع پر آپس میں بات کرنے لگے کہ کیا یسوع عیدِفسح منانے کے لیے یروشلیم آئیں گے یا نہیں۔—‏یوحنا 11:‏56‏۔‏

یسوع مسیح کو لے کر یروشلیم میں بہت چہ‌میگوئیاں ہو رہی تھیں۔ کچھ مذہبی رہنما یسوع کو مار ڈالنا چاہتے تھے۔ اِس لیے اُنہوں نے حکم دیا کہ اگر کسی کو پتہ ہو کہ یسوع کہاں ہیں تو ’‏آ کر خبر دے تاکہ اُنہیں گِرفتار کِیا جا سکے۔‘‏ (‏یوحنا 11:‏57‏)‏ یہ رہنما پہلے بھی یسوع کو مار ڈالنے کی کوشش کر چُکے تھے۔ یہ تب کی بات تھی جب یسوع نے لعزر کو زندہ کِیا تھا۔ (‏یوحنا 11:‏49-‏53‏)‏ اِس لیے بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ یسوع مسیح کُھلے عام یروشلیم نہیں آئیں گے۔‏

یسوع مسیح ”‏عیدِفسح سے چھ دن پہلے“‏ جمعے کو دن کے دوران بیت‌عنیاہ پہنچے۔ (‏یوحنا 12:‏1‏)‏ جمعے کو سورج ڈوبنے کے بعد یہودیوں کا نیا دن یعنی 8 نیسان شروع ہوا جو کہ سبت کا دن تھا۔ لہٰذا یسوع سبت کے شروع ہونے سے پہلے بیت‌عنیاہ پہنچ گئے۔ وہ سبت کے دن یعنی جمعے کی شام سے لے کر ہفتے کی شام تک یریحو سے بیت‌عنیاہ کا سفر نہیں کر سکتے تھے کیونکہ یہودیوں کو سبت کے دن سفر کرنا منع تھا۔ یقیناً یسوع، لعزر کے گھر رُکے ہوں گے جیسا کہ وہ پہلے بھی کر چُکے تھے۔‏

ہفتے کی شام کو یسوع مسیح اپنے شاگردوں اور لعزر کے ساتھ شمعون کے گھر گئے جو بیت‌عنیاہ ہی میں رہتے تھے۔ شمعون ”‏ایک زمانے میں کوڑھی تھے“‏ اور ہو سکتا ہے کہ یسوع مسیح نے اُنہیں اِس مرض سے شفا دی تھی۔ مارتھا جو کہ بڑی محنتی تھیں، وہاں موجود مہمانوں کی خاطرتواضع کرنے میں لگ گئیں۔ اِس دوران مریم نے ایک ایسا کام کِیا جس پر کچھ مہمانوں نے اِعتراض کِیا۔‏

مریم نے پتھر کی ایک بوتل کھولی جس میں ”‏ایک پونڈ سنبل کا خالص تیل“‏ تھا۔ (‏یوحنا 12:‏3‏)‏ یہ تیل بہت ہی مہنگا تھا۔ اِس کی قیمت تقریباً 300 دینار تھی جو کہ ایک سال کی مزدوری کے برابر تھی۔ مریم نے یہ تیل یسوع کے سر اور پاؤں پر ڈالا اور اُن کے پاؤں کو اپنے بالوں سے پونچھا۔ تیل اِتنا خوشبودار تھا کہ اِس کی مہک پورے گھر میں پھیل گئی۔‏

یہ دیکھ کر شاگرد بہت ناراض ہوئے اور کہنے لگے:‏ ”‏اِس تیل کو ضائع کیوں کِیا گیا؟“‏ (‏مرقس 14:‏4‏)‏ یہوداہ اِسکریوتی نے تو یہ بھی کہا:‏ ”‏کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ اِس تیل کو 300 دینار کا بیچا جاتا اور پیسے غریبوں کو دیے جاتے؟“‏ (‏یوحنا 12:‏5‏)‏ یہوداہ نے یہ اِس لیے نہیں کہا کہ اُسے غریبوں کی فکر تھی بلکہ اِس لیے کہ وہ چور تھا۔ اُس کے پاس شاگردوں کے پیسوں کا ڈبہ ہوتا تھا اور وہ اُس میں سے چوری کرتا تھا۔‏

مگر یسوع مسیح نے مریم کا دِفاع کِیا اور کہا:‏ ”‏آپ اِس عورت کو پریشان کیوں کر رہے ہیں؟ اِس نے میرے لیے ایک اچھا کام کِیا ہے۔ کیونکہ غریب تو ہمیشہ آپ کے پاس رہیں گے لیکن مَیں ہمیشہ آپ کے پاس نہیں رہوں گا۔ اِس عورت نے مجھ پر تیل ڈال کر میرے جسم کو دفن ہونے کے لیے تیار کِیا ہے۔ مَیں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ پوری دُنیا میں جہاں بھی خوش‌خبری کی مُنادی کی جائے گی وہاں اِس واقعے کا بھی ذکر کِیا جائے گا اور اِس عورت کو یاد کِیا جائے گا۔“‏—‏متی 26:‏10-‏13‏۔‏

یسوع مسیح کو بیت‌عنیاہ میں ایک دن سے اُوپر ہو گیا تھا اور اُن کے آنے کی خبر پھیل گئی تھی۔ بہت سے یہودی شمعون کے گھر آئے۔ وہ صرف یسوع کو نہیں بلکہ لعزر کو بھی دیکھنا چاہتے تھے ”‏جنہیں یسوع نے زندہ کِیا تھا۔“‏ (‏یوحنا 12:‏9‏)‏ جب اعلیٰ کاہنوں کو یہ پتہ چلا تو اُنہوں نے یسوع کے ساتھ ساتھ لعزر کو بھی مار ڈالنے کا فیصلہ کِیا کیونکہ اُن کا خیال تھا کہ لوگ لعزر کو زندہ دیکھ کر یسوع پر ایمان لا رہے ہیں۔ یہ مذہبی پیشوا کتنے بُرے تھے!‏