مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

مطالعے کا مضمون نمبر 26

گیت نمبر 123‏:‏ تابع‌دار ہوں

خاکساری سے تسلیم کریں کہ آپ سب باتوں کو نہیں جانتے

خاکساری سے تسلیم کریں کہ آپ سب باتوں کو نہیں جانتے

‏”‏لامحدود قدرت کے مالک کو سمجھنا ہمارے بس سے باہر ہے۔“‏‏—‏ایو 37:‏23‏۔‏

غور کریں کہ ‏.‏ ‏.‏ ‏.‏

جب ہم خاکساری سے تسلیم کرتے ہیں کہ ہم سب باتوں کے بارے میں نہیں جانتے اور اُن باتوں پر اپنا دھیان رکھتے ہیں جن کے بارے میں ہم جانتے ہیں اور یہوواہ پر مکمل بھروسا ظاہر کرتے ہیں تو ہم ثابت‌قدم کیسے رہ پاتے ہیں۔‏

1.‏ یہوواہ نے ہم میں کون سی صلاحیت ڈالی ہے اور کیوں؟‏

 یہوواہ نے ہمیں بڑے حیرت‌انگیز طریقے سے بنایا ہے۔ اُس نے ہم میں سوچ بچار کرنے، نئی باتوں کو سیکھنے، اِنہیں سمجھنے اور سیکھی ہوئی باتوں پر عمل کرنے کی صلاحیت ڈالی ہے۔ لیکن یہوواہ نے ہم میں یہ صلاحیت کیوں ڈالی ہے؟ اِس لیے کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ ہم ”‏[‏اُس]‏کا علم حاصل“‏ کریں اور اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو اِستعمال میں لا کر اُس کی خدمت کرنے کا فیصلہ کریں۔—‏اَمثا 2:‏1-‏5؛‏ روم 12:‏1‏۔‏

2.‏ ہمیں کس بات کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے اور اِس سے ہمیں کیا فائدہ ہوگا؟ (‏ایوب 37:‏23، 24‏)‏ (‏تصویر کو بھی دیکھیں۔)‏

2 سچ ہے کہ یہوواہ نے ہم میں کئی باتیں سیکھنے کی صلاحیت ڈالی ہے۔ لیکن ہمارے لیے ہر بات کو جاننا ممکن نہیں ہے۔ ایسی بہت سی باتیں ہیں جن کے بارے میں ہمارا علم بہت محدود ہے۔ ‏(‏ایوب 37:‏23، 24 کو پڑھیں۔)‏ اِس سلسلے میں ذرا ایوب کی مثال پر غور کریں۔ یہوواہ نے اُن سے ایک کے بعد ایک ایسے سوال کیے جن سے ایوب یہ سمجھ پائے کہ وہ بہت ساری باتوں کے بارے میں نہیں جانتے۔ (‏ایو 42:‏3-‏6‏)‏ یہوواہ کے ساتھ ہوئی اِس بات‌چیت کے ذریعے ایوب خاکسار بن پائے اور اپنی سوچ کو ٹھیک کر پائے۔ اگر ہم بھی یہ تسلیم کریں گے کہ ہم سب باتوں کے بارے میں نہیں جانتے تو ہمیں بھی فائدہ ہوگا۔ اِس طرح ہم بھی خاکسار بن پائیں گے اور اِس بات پر بھروسا کریں گے کہ یہوواہ ہمیشہ ہمیں وہ باتیں بتا دے گا جنہیں جاننا ہمارے لیے واقعی ضروری ہے اور جن کے ذریعے ہم صحیح فیصلے لے سکیں۔—‏اَمثا 2:‏6‏۔‏

اگر ایوب کی طرح ہم بھی یہ تسلیم کریں گے کہ ہم سب باتوں کے بارے میں نہیں جانتے تو ہمیں بھی فائدہ ہوگا۔ (‏پیراگراف نمبر 2 کو دیکھیں۔)‏


3.‏ اِس مضمون میں ہم کن باتوں پر غور کریں گے؟‏

3 اِس مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ ہم کن باتوں کے بارے میں نہیں جانتے اور کبھی کبھار اِن باتوں کو نہ جاننے سے ہمیں کن مشکلوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ہم اِس بات پر بھی غور کریں گے کہ کچھ باتوں کے بارے میں نہ جاننا اچھا کیوں ہوتا ہے۔ اِن معاملوں پر بات‌چیت کرنے سے ہمارا اِعتماد اِس بات پر بڑھے گا کہ ”‏کامل علم“‏ کا مالک یہوواہ ہمیں وہ باتیں ضرور بتائے گا جن کا ہمیں پتہ ہونا چاہیے۔—‏ایو 37:‏16‏۔‏

ہم نہیں جانتے کہ دُنیا کا خاتمہ کب آئے گا

4.‏ متی 24:‏36 کے مطابق ہم کس بات کے بارے میں نہیں جانتے؟‏

4 متی 24:‏36 کو پڑھیں۔‏ ہم نہیں جانتے کہ اِس بُری دُنیا کا خاتمہ کب آئے گا۔ جب یسوع مسیح زمین پر تھے تو اُس وقت تو اُنہیں بھی اُس ”‏دن یا گھنٹے“‏ کے بارے میں نہیں پتہ تھا۔‏ a بعد میں اُنہوں نے اپنے رسولوں کو بھی بتایا کہ کچھ واقعات کے بارے میں صرف یہوواہ ہی یہ طے کرتا ہے کہ وہ کب ہوں گے۔ (‏اعما 1:‏6، 7‏)‏ یہوواہ نے اِس دُنیا کے خاتمے کا وقت مقرر کر لیا ہے۔ ہم یہ اندازہ لگا ہی نہیں سکتے کہ خاتمہ ٹھیک کب آئے گا۔‏

5.‏ چونکہ ہمیں نہیں پتہ کہ خاتمہ کب آئے گا اِس لیے شاید ہمیں کن مشکلوں کا سامنا ہو؟‏

5 یسوع نے دُنیا کے خاتمے کے بارے میں جو کچھ کہا، اُس سے پتہ چلتا ہے کہ ہم نہیں جانتے کہ ہمیں خاتمے کے آنے کا اَور کتنا اِنتظار کرنا ہوگا۔ اِس وجہ سے ہو سکتا ہے کہ ہم بے‌حوصلہ اور بے‌صبرے ہو جائیں، خاص طور پر اُس وقت اگر ہم پہلے سے ہی یہوواہ کے دن کے آنے کا کئی سالوں سے اِنتظار کر رہے ہیں۔ یا ہو سکتا ہے کہ ہم اپنے گھر والوں یا دوسروں کے یہ طعنے سُن سُن کر ہمت ہار بیٹھیں کہ خاتمہ ابھی تک کیوں نہیں آیا۔ (‏2-‏پطر 3:‏3، 4‏)‏ شاید ہم سوچیں کہ اگر ہمیں خاتمے کے آنے کا دن یا وقت پتہ ہوتا تو ہمارے لیے صبر سے کام لینا اور دوسروں کے طعنے برداشت کرنا زیادہ آسان ہوتا۔‏

6.‏ یہ کیوں اچھا ہے کہ ہمیں اِس دُنیا کے خاتمے کے آنے کی تاریخ کے بارے میں نہیں پتہ؟‏

6 یہوواہ نے ہمیں خاتمے کی تاریخ نہ بتانے سے یہ ثابت کرنے کا موقع دیا ہے کہ ہم اُس سے محبت کرنے کی وجہ سے اُس کی خدمت کرتے ہیں اور ہم اُس پر بھروسا کرتے ہیں۔ ہمارا ایمان کسی تاریخ کا محتاج نہیں کہ اِس کی مُدت پوری ہوئی اور یہ ختم ہو گیا۔ ہم صرف خاتمے کے آنے تک ہی نہیں بلکہ ہمیشہ تک یہوواہ کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ تو اِس بات پر اپنا دھیان رکھنے کی بجائے کہ ’‏یہوواہ کا دن‘‏ کب آئے گا، ہمیں اُن اچھی باتوں پر اپنا دھیان رکھنا چاہیے جو اِس دن کے آنے پر ہوں گی۔ ایسا کرنے سے ہم جی جان سے یہوواہ کی بندگی کر سکیں گے اور اُسے خوش کرنے کی جی‌توڑ کوشش کریں گے۔—‏2-‏پطر 3:‏11، 12‏۔‏

7.‏ ہم کیا جانتے ہیں؟‏

7 یہ بہت اہم ہے کہ ہم اُن باتوں کے بارے میں سوچیں جنہیں ہم جانتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ آخری زمانہ 1914ء میں شروع ہوا۔ یہوواہ نے بائبل میں ایسی پیش‌گوئیاں لکھوائی ہیں جن سے نہ صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ آخری زمانہ اِسی سال میں شروع ہوا تھا بلکہ اُس نے بڑی تفصیل سے اُن حالات کے بارے میں بھی بتایا ہے جو اِس سال کے بعد سے ہونے لگے تھے۔ چونکہ یہ پیش‌گوئیاں بالکل سچ ثابت ہوئی ہیں اِس لیے ہمیں پکا یقین ہے کہ ”‏[‏یہوواہ]‏کا روزِعظیم قریب ہے۔“‏ (‏صِفَن 1:‏14‏)‏ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ یہوواہ ہم سے کون سا کام کروانا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ لوگوں میں ”‏بادشاہت کی خوش‌خبری کی مُنادی“‏ کریں۔ (‏متی 24:‏14‏)‏ بادشاہت کا پیغام تقریباً 240 ملکوں میں 1000 سے زیادہ زبانوں میں سنایا جا رہا ہے۔ ہمیں اِس اہم کام کو لگن سے کرنے کے لیے ”‏دن یا گھنٹے“‏ کو جاننے کی ضرورت نہیں ہے۔‏

ہم نہیں جانتے کہ یہوواہ ہماری مدد کیسے کرے گا

8.‏ اِس بات کا کیا مطلب ہے کہ ہم ”‏سچے خدا کے کاموں کو نہیں جانتے“‏؟ (‏واعظ 11:‏5‏)‏

8 یہوواہ اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لیے کوئی بھی کام کرسکتا ہے یا پھر کسی کام کے ہونے کی اِجازت دے سکتا ہے۔ لیکن بائبل میں بتایا گیا ہے کہ ہم ہمیشہ ’‏سچے خدا کے کاموں کو نہیں جان‘‏ سکتے۔ ‏(‏واعظ 11:‏5 کو پڑھیں۔)‏ اِس بات کا کیا مطلب ہے؟ اِس سوال کا جواب جاننے کے لیے ذرا اِس بارے میں سوچیں:‏ سائنس‌دان ابھی تک اِس حیرت‌انگیز عمل کو پوری طرح سے نہیں سمجھ پائے کہ ایک حاملہ عورت کے پیٹ میں بچہ نشوونما کیسے پاتا ہے۔ اِسی طرح ہم کبھی بھی پوری طرح سے یہ نہیں سمجھ سکتے کہ یہوواہ نے ایک کام ہونے کی اِجازت کیوں دی یا وہ مشکل وقت میں ہماری مدد کس طرح سے کرے گا۔—‏زبور 37:‏5‏۔‏

9.‏ چونکہ ہمیں یہ پتہ نہیں ہوتا کہ یہوواہ ہماری مدد کیسے کرے گا اِس لیے شاید ہم کیا سوچنے لگیں؟‏

9 جب ہم یہ نہیں جانتے کہ یہوواہ فلاں معاملے میں ہماری مدد کیسے کرے گا تو شاید ہم کچھ فیصلے لینے سے ہچکچائیں۔ ہو سکتا ہے کہ ہم یہوواہ کی اَور زیادہ خدمت کرنے کے لیے قربانیاں دینے سے گھبرائیں جیسے کہ اپنی زندگی کو سادہ بنانے سے یا اُس جگہ جا کر یہوواہ کی خدمت کرنے سے جہاں مبشروں کی زیادہ ضرورت ہے۔ یا پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہم نے یہوواہ کی اَور خدمت کرنے کے لیے منصوبے بنائے ہیں لیکن ہم اِن پر پورا نہیں اُتر پائے یا پھر ہم بڑھ چڑھ کر مُنادی تو کرتے ہیں لیکن ابھی تک ہمارے پاس کوئی بائبل کورس نہیں ہے یا پھر ہم تنظیم کے کسی پراجیکٹ پر کام کر رہے ہیں لیکن اِسے پورا کرنے کے حوالے سے ہمیں بہت سی رُکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایسی صورتوں میں شاید ہم یہ سوچنے لگیں کہ یہوواہ ہم سے خوش نہیں ہے اور شاید اِسی لیے وہ ہماری مدد نہیں کر رہا۔‏

10.‏ جب ہم یہ نہیں جانتے کہ یہوواہ ہماری مدد کیسے کرے گا تو ہمیں خود میں کون سی خوبی پیدا کرنے کا موقع ملتا ہے؟‏

10 جب ہم یہ نہیں جانتے کہ یہوواہ ٹھیک ہماری مدد کیسے کرے گا تو دراصل ہمیں خود میں خاکساری جیسی اہم خوبی پیدا کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اِس طرح ہم یہ سمجھ پاتے ہیں کہ یہوواہ کے خیال اور اُس کی راہیں ہمارے خیالوں اور ہماری راہوں سے کتنی بلند ہیں۔ (‏یسع 55:‏8، 9‏)‏ اِس کے علاوہ ہم اِس بات پر مکمل بھروسا کرنا سیکھتے ہیں کہ یہوواہ ہر معاملے کو بہترین طریقے سے حل کرے گا۔ جب ہم مُنادی میں یا تنظیم کے کسی پراجیکٹ میں اچھے نتیجے دیکھتے ہیں تو ہم یہوواہ کی بڑائی کرنے کے قابل ہوتے ہیں جس کا وہ واقعی حق‌دار ہے۔ (‏زبور 127:‏1؛‏ 1-‏کُر 3:‏7‏)‏ اور اگر کسی معاملے کا نتیجہ ویسا نہیں نکلتا جیسا ہم نے سوچا ہوتا ہے تو ہمیں اِس بات سے امن‌وسکون مل سکتا ہے کہ یہوواہ سب کچھ دیکھ رہا ہے اور پوری صورتحال ابھی بھی اُس کے ہاتھ میں ہے۔ (‏یسع 26:‏12‏)‏ ہمیں بس وہ کرنا ہے جو ہم کر سکتے ہیں اور پھر اِس بات پر بھروسا کرنا ہے کہ باقی سب یہوواہ سنبھال لے گا۔ ہم اِس بات کا پکا یقین رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ ہمیں وہ ہدایتیں دے گا جو ہمارے لیے ضروری ہوں گی، بھلے ہی وہ ایسا کوئی معجزہ کر کے نہ دے جیسے اُس نے ماضی میں کبھی کبھار کِیا تھا۔—‏اعما 16:‏6-‏10‏۔‏

11.‏ ہم کن اہم باتوں کو جانتے ہیں؟‏

11 اُن باتوں پر سوچ بچار کریں جنہیں ہم جانتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم جانتے ہیں کہ یہوواہ محبت کرنے والا، اِنصاف‌پسند اور دانش‌مند خدا ہے۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ یہوواہ اُن کاموں کی بہت قدر کرتا ہے جو ہم اُس کے اور اپنے ہم‌ایمانوں کے لیے کرتے ہیں۔ اِس کے علاوہ ہمیں یہ بھی پتہ ہے کہ یہوواہ ہمیشہ اُن لوگوں کو اجر دیتا ہے جو اُس کے وفادار رہتے ہیں۔—‏عبر 11:‏6‏۔‏

ہم نہیں جانتے کہ کل کیا ہوگا

12.‏ یعقوب 4:‏13، 14 کے مطابق ہم کیا نہیں جانتے؟‏

12 یعقوب 4:‏13، 14 کو پڑھیں۔‏ سچ تو یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی یہ نہیں جانتا کہ کل ہمارے ساتھ کیا ہوگا۔ اِس دُنیا میں رہتے ہوئے ”‏کسی پر بھی بُرا وقت آ سکتا ہے اور کسی کے ساتھ اچانک کچھ بھی ہو سکتا ہے۔“‏ (‏واعظ 9:‏11‏)‏ اِس لیے ہم نے جو منصوبے بنائے ہیں، ہم اُن کے بارے میں یقین سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ ضرور پورے ہوں گے یا ہم اُنہیں پورا کرنے کے لیے زندہ رہیں گے یا نہیں۔‏

13.‏ جب ہم اُن سب باتوں کے بارے میں نہیں جانتے جو مستقبل میں ہوں گی تو شاید ہم کیسا محسوس کریں؟‏

13 کبھی کبھار ہم پر اچانک سے مشکلیں آ جاتی ہیں جس کی وجہ سے ہماری زندگی پَل بھر میں بدل سکتی ہے اور ہم دُکھی ہو سکتے ہیں۔ اِس کے علاوہ جب ہماری توقعات پوری نہیں ہوتیں تو ہم بے‌حوصلہ اور مایوس ہو سکتے ہیں۔ (‏اَمثا 13:‏12‏)‏ اِن باتوں کی وجہ سے شاید ہم ہر وقت یہ سوچ کر پریشان رہیں کہ پتہ نہیں، آگے چل کر ہمارے ساتھ کیا ہوگا۔ یوں ہمارے لیے مسئلوں سے لڑنا مشکل ہو جائے گا اور ہم اپنی خوشی کھو بیٹھیں گے۔‏

14.‏ سچی خوشی کس بات پر ٹکی ہے؟ (‏تصویروں کو بھی دیکھیں۔)‏

14 مشکلوں میں ثابت‌قدم رہنے سے ہم ظاہر کرتے ہیں کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے،ہم اپنے آسمانی باپ سے محبت اور اُس کی خدمت کرتے رہیں گے۔ بائبل میں لکھے واقعات کو پڑھنے سے ہم سیکھتے ہیں کہ ہمیں اِس بات کی توقع نہیں کرنی چاہیے کہ یہوواہ ہمیں ہر مشکل سے بچائے گایا ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ یہوواہ نے ہماری زندگی میں ہونے والی ہر بات کو پہلے سے طے کِیا ہوا ہے۔ یہوواہ جانتا ہے کہ سچی خوشی اِس بات پر نہیں ٹکی کہ ہمیں مستقبل کے بارے میں ہر بات پتہ ہو بلکہ یہ اِس بات پر ٹکی ہے کہ ہم اُس سے رہنمائی مانگتے رہیں اور اُس کی فرمانبرداری کرتے رہیں۔ (‏یرم 10:‏23‏)‏ جب ہم کوئی بھی فیصلہ لیتے وقت یہوواہ پر آس لگاتے ہیں تو ایک طرح سے ہم یہ کہہ رہے ہوتے ہیں:‏ ”‏اگر یہوواہ چاہتا ہے تو ہم زندہ رہیں گے اور یہ یا وہ کام کریں گے۔“‏—‏یعقو 4:‏15‏۔‏

یہوواہ سے رہنمائی کے لیے درخواست کرنے اور اُس کا حکم ماننے سے ہمیں تحفظ حاصل ہوگا۔ (‏پیراگراف نمبر 14-‏15 کو دیکھیں۔)‏ b


15.‏ ہم مستقبل کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟‏

15 بے‌شک ہم یہ نہیں جانتے کہ ہمارا ہر اگلا دن کیسا ہوگا لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ یہوواہ ہمیں ہمیشہ کی زندگی دینے کا وعدہ ضرور پورا کرے گا پھر چاہے وہ ہمیں آسمان پر ہمیشہ کی زندگی دے یا زمین پر۔ ہم جانتے ہیں کہ یہوواہ جھوٹ نہیں بول سکتا اور دُنیا کی کوئی بھی طاقت اُسے اپنے وعدے پورے کرنے سے نہیں روک سکتی۔ (‏طِط 1:‏2‏)‏ صرف وہی ”‏انجام کے بارے میں“‏ بتا سکتا ہے اور ”‏قدیم زمانے سے ہی اُن باتوں کے بارے میں جو ابھی تک نہیں ہوئیں۔“‏ جس طرح ماضی میں یہوواہ کی ساری پیش‌گوئیاں پوری ہوئی تھیں اُسی طرح اُس کی وہ پیش‌گوئیاں بھی ضرور پوری ہوں گی جو اُس نے مستقبل کے بارے میں کی ہیں۔ (‏یسع 46:‏10‏)‏ ہمیں پورا یقین ہے کہ کوئی بھی چیز یہوواہ کو ہم سے محبت کرنے سے نہیں روک سکتی۔ (‏روم 8:‏35-‏39‏)‏ چاہے ہماری راہ میں کوئی بھی مشکل کھڑی ہو جائے، یہوواہ ہمیں دانش‌مندی، تسلی اور طاقت دے گا۔ ہم اِس بات کا پکا یقین رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ ہمیشہ ہماری مدد کرے گا اور ہمیں برکت دے گا۔—‏یرم 17:‏7، 8‏۔‏

ہم پوری طرح سے نہیں سمجھ سکتے کہ یہوواہ ہمیں کتنی اچھی طرح سے جانتا ہے

16.‏ یہوواہ ہمارے بارے میں کیا کچھ جانتا ہے اور یہ جان کر آپ کو کیسا لگتا ہے؟ (‏زبور 139:‏1-‏6‏)‏

16 زبور 139:‏1-‏6 کو پڑھیں۔‏ ہمارا خالق ہمارے بارے میں ہر بات اچھی طرح سے جانتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ہم جو سوچتے ہیں، وہ کیوں سوچتے ہیں اور ہم جیسا محسوس کرتے ہیں، وہ کیوں محسوس کرتے ہیں۔ ہم جو کچھ کہتے ہیں، اُسے اِس کا پتہ ہوتا ہے اور جو ہمارے دل میں ہوتا ہے، اُسے اُس کے بارے میں بھی پتہ ہوتا ہے۔ اُسے ہمارے کیے ہوئے ایک ایک کام کا پتہ ہے اور یہ بھی کہ ہم نے وہ کام کیوں کِیا ہے۔ جیسا کہ بادشاہ داؤد نے کہا، یہوواہ ہماری حفاظت کرنے کے لیے واقعی ہمیں چاروں طرف سے گھیرے رہتا ہے اور ہمیشہ ہماری مدد کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ یہ کتنی زبردست بات ہے نا کہ لامحدود طاقت کا مالک، کائنات کا حاکم اور سب چیزوں کو بنانے والا خدا ہماری اِتنی فکر کرتا ہے!‏ داؤد نے کہا:‏ ”‏یہ بات میری سمجھ سے باہر ہے کہ تُو مجھے اِتنی اچھی طرح جانتا ہے، ہاں، اِسے سمجھنا میرے بس سے باہر ہے۔“‏—‏زبور 139:‏6‏۔‏

17.‏ شاید ہمیں اِس بات کو قبول کرنا کیوں مشکل لگے کہ یہوواہ ہمیں سمجھتا ہے؟‏

17 ہم نے جس گھرانے میں پرورش پائی ہے؛ ہم جس ثقافت سے تعلق رکھتے ہیں یا پھر یہوواہ کا گواہ بننے سے پہلے ہم جن عقیدوں کو مانتے تھے، شاید اُن کی وجہ سے ہمیں یہ تسلیم کرنا مشکل لگے کہ یہوواہ ایک شفیق باپ ہے جو ہم سے پیار کرتا ہے۔ یا شاید ہم میں سے کچھ یہ سوچیں:‏ ”‏مَیں نے ماضی میں اِتنی سنگین غلطیاں کی ہیں اِس لیے یہوواہ مجھ جیسے اِنسان کو کبھی نہیں جاننا چاہے گا اور نہ ہی وہ کبھی میرے قریب آنا چاہے گا۔“‏ کبھی کبھار تو داؤد بھی ایسا ہی محسوس کرتے تھے۔ (‏زبور 38:‏18،‏ 21‏)‏ شاید ایک شخص جو یہوواہ کو خوش کرنے کے لیے اپنی کسی بُری عادت سے لڑ رہا ہے، یہ سوچنے لگے:‏ ”‏اگر خدا واقعی مجھے سمجھتا ہے تو پھر وہ مجھ سے یہ توقع کیوں کرتا ہے کہ مَیں خود کو بدلوں؟ وہ مجھے ویسے ہی قبول کیوں نہیں کر لیتا جیسا مَیں ہوں؟“‏

18.‏ ہمارے لیے اِس بات کو تسلیم کرنا اہم کیوں ہے کہ یہوواہ ہمیں ہم سے بہتر جانتا ہے؟ (‏تصویروں کو بھی دیکھیں۔)‏

18 ہم اِس بات کو تسلیم کرنا سیکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ ہمیں ہم سے بہتر جانتا ہے اور وہ ہم میں ایسی اچھی باتیں دیکھ سکتا ہے جنہیں ہم نہیں دیکھ پاتے۔ سچ ہے کہ وہ جانتا ہے کہ ہم میں کون سی خامیاں ہیں اور وہ سمجھتا ہے کہ ہم نے فلاں کام کیوں کِیا اور ہم ایک معاملے کے بارے میں کیسا محسوس کرتے ہیں لیکن وہ یہ بھی جانتا ہے کہ ہم اُس سے محبت کرتے ہیں اور ایک اچھا اِنسان بننا چاہتے ہیں۔ (‏روم 7:‏15‏)‏ جب ہم اِس بات پر سوچ بچار کرتے ہیں کہ یہوواہ ہمیشہ اِس بات پر دھیان دیتا ہے کہ ہم ایک اچھے اِنسان بن سکتے ہیں تو ہمیں وفاداری اور خوشی سے اُس کی خدمت کرتے رہنے کی ہمت اور طاقت ملتی ہے۔‏

یہوواہ ہماری مدد کرتا ہے کہ ہم اُن وعدوں پر اپنا ایمان مضبوط کریں جو اُس نے مستقبل میں پورے کرنے ہیں۔ اِس طرح وہ ہمیں اُن مشکلوں میں ثابت‌قدم رہنے کے قابل بناتا ہے جو اچانک سے ہم پر آ جاتی ہیں۔ (‏پیراگراف نمبر 18-‏19 کو دیکھیں۔)‏ c


19.‏ ہم یہوواہ کے بارے میں کون سی باتیں پورے یقین سے جانتے ہیں؟‏

19 ہمیں اِس بات پر ذرا سا بھی شک نہیں ہے کہ یہوواہ محبت ہے۔ (‏1-‏یوح 4:‏8‏)‏ ہم جانتے ہیں کہ یہوواہ ہمیں اپنے معیار اِس لیے دیتا ہے کیونکہ وہ ہم سے محبت کرتا ہے اور دل سے ہمارا بھلا چاہتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ یہوواہ چاہتا ہے کہ ہم ہمیشہ تک زندہ رہیں۔ اِسی وجہ سے تو اُس نے ہمارے لیے فدیے کا بندوبست کِیا ہے۔ فدیے کی نعمت کی وجہ سے ہمیں اِس بات کا پکا یقین ہو جاتا ہے کہ ہم غلطیاں کرنے کے باوجود بھی یہوواہ کی اُسی طرح سے خدمت کر سکتے ہیں جس طرح سے وہ چاہتا ہے۔ (‏روم 7:‏24، 25‏)‏ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ”‏خدا ہمارے دل سے بڑا ہے اور سب کچھ جانتا ہے۔“‏ (‏1-‏یوح 3:‏19، 20‏)‏ یہوواہ ہمارے بارے میں ایک ایک بات جانتا ہے اور اُسے اِس بات پر پورا بھروسا ہے کہ ہم اُس کی مرضی پوری کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔‏

20.‏ کیا چیز بِلاوجہ کی پریشانی سے بچنے میں ہماری مدد کرے گی؟‏

20 یہوواہ نے ہم سے کوئی بھی ایسی معلومات نہیں چھپائی جسے جاننا ہمارے لیے ضروری ہے۔ جب ہم خاکساری سے اِس بات کو تسلیم کرتے ہیں تو ہم اُن باتوں کی وجہ سے حد سے زیادہ پریشان نہیں ہوتے جنہیں جاننا ہمارے لیے ضروری نہیں ہے۔ اِس کی بجائے ہم اپنا دھیان زیادہ اہم باتوں پر رکھ پاتے ہیں۔ ایسا کرنے سے ہم یہوواہ پر مکمل بھروسا ظاہر کرتے ہیں ”‏جس کے پاس کامل علم ہے۔“‏ (‏ایو 36:‏4‏)‏ سچ ہے کہ ابھی ہم کچھ معاملوں کو اچھی طرح سے نہیں سمجھ سکتے۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ یہوواہ ہمیں ہمیشہ تک نئی باتیں سکھاتا رہے گا۔ ہم اُس وقت کے منتظر ہیں جب ہم ہمیشہ تک اپنے عظیم خدا کے بارے میں شان‌دار باتیں سیکھتے رہیں گے۔—‏واعظ 3:‏11‏۔‏

گیت نمبر 104‏:‏ پاک روح کے لیے درخواست

a یسوع مسیح شیطان کی بُری دُنیا کے خلاف جنگ لڑنے میں پیشوائی کریں گے۔ تو اِس نتیجے پر پہنچنا غلط نہیں ہوگا کہ اب یسوع مسیح ہرمجِدّون کی جنگ کے شروع ہونے کی تاریخ جانتے ہیں اور یہ بھی کہ وہ کب ”‏مکمل فتح حاصل“‏ کریں گے۔—‏مُکا 6:‏2؛‏ 19:‏11-‏16‏۔‏

b تصویر کی وضاحت‏:‏ ایک باپ اور بیٹا مل کر ایک بیگ میں چیزیں ڈال رہے ہیں تاکہ اُن کا خاندان ایمرجنسی میں کھڑی ہونے والی صورتحال کے لیے تیار رہے۔‏

c تصویر کی وضاحت:‏ ایک بھائی مشکلوں کا سامنا کرتے وقت اپنا دھیان اُس خوشی پر رکھ رہا ہے جو اُسے نئی دُنیا میں جا کر ملے گی۔‏